اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی اہداف پر بھرپور جوابی حملے کیے ہیں
جن میں اینٹی ڈرون سسٹمز اور ارلی وارننگ ریڈار تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد خطے میں اپنے دفاع کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا موثر جواب دینا تھا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، مسلح افواج نے جدید میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے ان اہداف کو نشانہ بنایا جو بقول ان کے امریکہ کے زیر استعمال تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ حملوں کے دوران کچھ لڑاکا طیاروں کے عملے کو بھی نقصان پہنچا، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایران کے فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی تھیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے جواب میں کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو اس کا جواب مزید سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔امریکی حکام کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں امریکہ ایسے دعوؤں کی تردید کرتا رہا ہے اور انہیں مبالغہ آرائی قرار دیتا آیا ہے۔
علاقائی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے بیانات اور دعوے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی نازک ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں مختلف محاذوں پر کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہی ہے۔