اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران میں امریکا اور اسرائیل کی حالیہ بمباری کے باوجود حکومت کے حق میں بڑے عوامی مظاہرے سامنے آئے ہیں
جنہوں نے ملکی یکجہتی اور حکومتی حمایت کا واضح اظہار کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ملک کی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بیرونی حملوں کی شدید مذمت کی۔
گزشتہ شب ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی عام شہریوں کے ہمراہ مظاہروں میں شریک ہوئے۔ صدر پزشکیان کی آمد پر مظاہرین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور انقلاب ایران کے حق میں نعرے بلند کیے۔ اس موقع پر خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے حکومت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے صدر کو گلدستے پیش کیے جبکہ ولی عصر چوک میں ایک منفرد منظر دیکھنے میں آیا، جہاں ایرانی عوام نے پاکستانی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس دوران کئی مظاہرین اردو زبان میں تحریر کردہ پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر پاکستان کے لیے شکریہ کے پیغامات درج تھے۔مبصرین کے مطابق یہ مظاہرے نہ صرف ایران میں حکومتی حمایت کا مظہر ہیں بلکہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں قومی اتحاد کا بھی واضح پیغام دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں عوامی ردعمل حکومت کے مؤقف کو مزید تقویت دیتا ہے اور عالمی سطح پر ایک مضبوط سیاسی پیغام بھی پہنچاتا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یہ پیش رفت انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔