اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وفاقی دارالحکومت میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر مشکل حالات میں عوام سے مخاطب ہوں، پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے جس نے دنیا کی طاقتور معیشتوں کو بھی متاثر کیا ہے اور پاکستان بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے، اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ عام آدمی اپنی زندگی کیسے گزار رہا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں قومی وسائل سے 129 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تاکہ مہنگائی کے قیامت خیز طوفان کا اثر عوام تک پہنچنے نہ پائے۔ انہوں نے دعا کی کہ جلد سے جلد جنگ ختم ہو اور امن قائم ہو، اور بتایا کہ فیلڈ مارشل اسحاق ڈار امن کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ قومی وسائل محدود ہیں اور صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے قومی قیادت کو اکٹھا کیا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اجلاس میں بلایا گیا، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں بھرپور مشاورت کی گئی۔
شہباز شریف نے بتایا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اقدامات کیے ہیں اور عوام کے مسائل کا ادراک رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز کے اعلانات کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کو سبسڈی دی جائے گی، اور ٹرینوں میں اکانومی کلاس کے کرائے نہیں بڑھائے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ موٹر سائیکل مالکان کو فی لٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی، مال بردار اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے بھی سبسڈی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو ماہانہ ایک لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔
مزید کہا گیا کہ پٹرول پر لیوی میں 80 روپے کی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 378 روپے ہوگی، لیوی میں یہ کمی کم از کم ایک ماہ تک برقرار رہے گی، اور وفاقی کابینہ کے ارکان کی چھ ماہ کی تنخواہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ قومی وسائل کو عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکے۔