اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) واشنگٹن سے سامنے آنے والی اہم سفارتی پیش رفت کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو مستحکم بنانے کے لیے اپنی اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق یہ وفد ہفتے کی صبح اسلام آباد میں ایرانی حکام کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کرے گا، جسے خطے میں امن کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سینئر مشیر Jared Kushner شامل ہوں گے۔
ان مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دینا اور حساس معاملات، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقہ کار پر اتفاق کرنا ہے۔ کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران نے ابتدائی طور پر جنگ بندی کی پیشکش کی تھی اور بعد ازاں قابلِ قبول تجاویز بھی دیں، تاہم امریکا کی “سرخ لکیریں” بدستور برقرار ہیں اور واشنگٹن کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان بھی اس اہم سفارتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر نے پاکستانی قیادت کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے تصدیق کی کہ ایران کا وفد بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جبکہ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف کریں گے۔ یہ بات چیت نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ پورے خطے، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس ترجمان نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں نیتن یاہو سے بھی رابطہ کیا ہے، تاہم لبنان کی صورتحال اس جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور اس حوالے سے الگ سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات عالمی سیاست کا رخ موڑ سکتے ہیں اور اگر کامیاب رہے تو یہ ایک بڑی سفارتی پیش رفت ثابت ہوں گے۔