اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں۔
وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی ، سپریم نیشنل ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی اکبر مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور دیگر اہم پارلیمانی و دفاعی شخصیات شامل ہیں۔اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ استقبال کرنے والوں میں پاکستان کے اعلیٰ حکام بشمول عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ور وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے تھے۔
یہ وفد امریکا کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے پاکستان آیا ہے، جہاں امریکی وفد سے اہم بات چیت متوقع ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اس سے قبل باقر قالیبافنے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی سے پہلے دو بنیادی شرائط پر عملدرآمد ضروری ہے، جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق پہلی شرط ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور دوسری لبنان میں فوری جنگ بندی ہے۔
ایرانی اسپیکر نے واضح کیا کہ ان شرائط پر عمل کے بغیر جنگ بندی کا معاہدہ ممکن نہیں ہوگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیچیدگیاں بدستور موجود ہیں۔دوسری جانب فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے دو سرکاری طیارے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے، جس کے بعد وفد کی آمد کی تصدیق ہوئی۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔