اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں علیحدگی کے حوالے سے ریفرنڈم کروانے کی کوشش کو ایک اہم عدالتی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں عدالت نے ایک عبوری حکم جاری کرتے ہوئے دستخطوں کی تصدیقی عمل کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، تاہم دستخط جمع کرنے کی مہم جاری رکھنے کی اجازت برقرار رکھی گئی ہے۔
جمعہ کی سہ پہر جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں جسٹس شائنا لیونارڈ نے واضح کیا کہ درخواست گزار تنظیمیں بدستور عوام سے دستخط جمع کر سکتی ہیں، لیکن الیکشن البرٹا کو ان دستخطوں کی تصدیق کرنے یا معاملہ صوبائی حکومت کے حوالے کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک عدالت فرسٹ نیشنز کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں سنا دیتی۔
متعدد فرسٹ نیشنز کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شہری اقدام کے تحت ریفرنڈم کا موجودہ طریقہ کار اور علیحدگی پسند گروہ کی جانب سے اس کا استعمال، مناسب مشاورت کے بغیر معاہداتی حقوق کی خلاف ورزی اور آئین کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے تاکہ مقامی اقوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ جب تک حکومت خود کسی ریفرنڈم کے نتیجے پر عمل درآمد نہ کرے، اس وقت تک قانونی طور پر مشاورت کی کوئی لازمی شرط عائد نہیں ہوتی۔
جسٹس لیونارڈ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقدمے میں اہم آئینی نکات زیر غور ہیں اور اگر عبوری حکم جاری نہ کیا جاتا تو فرسٹ نیشنز کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ درخواست گزاروں نے اس بات کے شواہد فراہم کیے ہیں کہ مشاورت کے فقدان سے نقصان ہو رہا ہے اور معاہداتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکم صرف اگلے مراحل کو روکتا ہے، دستخط جمع کرنے کی مدت یا اس کی آخری تاریخ، جو کہ دو مئی مقرر ہے، اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اس دوران اسٹرجن لیک کری نیشن کے سربراہ شیلڈن سن شائن نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے اور وہ عدالت کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ اس حکم کا احترام کرے اور عدالتی کارروائی کے دوران کسی قسم کی تبدیلی نہ کرے۔
ادھر علیحدگی کے حق میں مہم چلانے والے گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مطلوبہ ایک لاکھ اٹھہتر ہزار سے زائد دستخط پہلے ہی جمع کر چکے ہیں۔ گروہ کے وکیل جیف راتھ نے کہا کہ یہ عبوری فیصلہ تحریک کے کارکنوں کے حوصلے مزید بلند کرے گا۔
یہ عدالتی پیش رفت اس حساس سیاسی اور آئینی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جس پر آنے والے ہفتوں میں حتمی فیصلہ متوقع ہے۔