اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں ملک سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کروانے کی مہم کو عدالت کی جانب سے عارضی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ دستخط جمع کرنے کا عمل جاری رہ سکتا ہے، تاہم اس کی تصدیق اور اگلے مراحل فی الحال روک دیے گئے ہیں۔
جسٹس شائنا لیونارڈ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ الیکشنز البرٹا دستخطوں کی جانچ پڑتال یا اس معاملے کو وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی حکومت کے سامنے پیش نہیں کر سکتا، جب تک اس سے متعلق فرسٹ نیشنز کی جانب سے دائر عدالتی چیلنج پر مکمل فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
فرسٹ نیشنز کے وکلا کا مؤقف ہے کہ عوامی ریفرنڈم کے اس عمل میں مناسب مشاورت نہ ہونے کے باعث یہ معاہداتی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ان کے ساتھ ضروری مشاورت کیے بغیر ایسا عمل شروع ہونے دیا، جو ان کے حقوق کے منافی ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جب تک ریفرنڈم کا باضابطہ فیصلہ نہیں ہوتا، اس وقت تک قانونی طور پر کسی مشاورت کی ضرورت نہیں بنتی۔
اپنے فیصلے میں جسٹس لیونارڈ نے کہا کہ اس معاملے میں سنجیدہ نوعیت کے قانونی سوالات موجود ہیں اور اگر عبوری پابندی نہ لگائی جاتی تو فرسٹ نیشنز کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دستخط جمع کرنے کی آخری تاریخ دو مئی برقرار رہے گی اور اس عمل پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی، بلکہ صرف اس کے بعد کے مراحل کو وقتی طور پر روکا گیا ہے۔
اس فیصلے کا خیر مقدم اسٹرجن لیک کری نیشن کے سربراہ شیلڈن سنشائن نے کیا، جن کا قبیلہ بھی اس مقدمے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مختلف مقامی اقوام کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے اور وہ عدالت کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب اس مہم کے منتظم گروپ کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے ہی ایک لاکھ اٹھہتر ہزار سے زائد دستخط جمع کر چکے ہیں، جو صوبہ بھر میں ریفرنڈم کروانے کے لیے درکار حد سے زیادہ ہیں۔ گروپ کے وکیل جیف راتھ کے مطابق عدالتی فیصلے کے باوجود اس تحریک کے حامی مزید متحرک ہوں گے۔
یاد رہے کہ اگر دستخطوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو صوبائی حکومت اس معاملے کو رواں سال خزاں میں عوامی ووٹنگ کے لیے پیش کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ تاہم موجودہ عدالتی کارروائی کے باعث اس عمل کا مستقبل فی الحال غیر یقینی کا شکار ہے۔