اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں ایران کے لیے تیل کی فروخت ممکن نہیں رہے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی برقرار ہے اور حالات بہتر سمت میں جا رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج اور بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی بحری بیڑوں کی بڑی تعداد کو تباہ کر دیا گیا ہے اور مزید کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں دیگر ممالک کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس توانائی کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور وہ اس صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے، تاہم ان کے مطابق ایران نے اہم معاملات پر لچک نہیں دکھائی۔ صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس معاملے پر امریکہ کا مؤقف سخت اور واضح ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی نے امریکی جہازوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو بھی ختم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ امریکی اور اتحادی بحری سرگرمیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے باعث یہ اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جہاز ایران کو کسی قسم کی ادائیگی کریں گے، انہیں محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب انہوں نے پاکستان کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کی اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر گہرے مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے ایک نئی عالمی کشیدگی جنم لینے کا خدشہ ہے۔