اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، جس کے بعد عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر ایک سو تین ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل ایک سو پانچ ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات کے باعث ہوا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے کی ممکنہ بندش نے مارکیٹ کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
توانائی کے شعبے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست توانائی کی منڈی پر پڑتے ہیں۔ سرمایہ کار ایسے حالات میں رسد میں کمی کے خدشے کے پیش نظر خریداری بڑھا دیتے ہیں، جس سے قیمتوں میں تیزی آتی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی، جو تقریباً ایک فیصد گر کر اٹھانوے ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی عارضی نوعیت کی ہو سکتی ہے اور مجموعی رجحان اب بھی قیمتوں میں اضافے کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آیا تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں مہنگائی میں اضافے، صنعتی لاگت میں اضافہ اور عام صارفین کے لیے مالی دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔
ادھر عالمی سرمایہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آئندہ دنوں میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر مذاکرات بحال ہو کر مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، بصورت دیگر منڈی میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔