اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں حکمران جماعت یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی نے ایک بار پھر صوبائی انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے
جس پر حزبِ اختلاف نیو ڈیموکریٹک پارٹی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے آئندہ عام انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت اکتوبر دو ہزار ستائیس کے متوقع انتخابات سے قبل سامنے آئی ہے جس نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔
حزبِ اختلاف کے رہنما نہید نینشی نے صوبائی اسمبلی میں بحث کے دوران وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اقتدار بچانے کے لیے حلقہ بندیوں میں رد و بدل کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت کو کس بات کا خوف ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات پر اتر آئی ہے۔
نہید نینشی نے الزام عائد کیا کہ حکومت شروع سے ہی اخلاقی حکمرانی کے بجائے صرف اقتدار کو ترجیح دے رہی ہے اور حلقہ بندیوں میں تبدیلی دراصل ایک منظم حکمتِ عملی ہے تاکہ انتخابی نتائج کو اپنے حق میں ڈھالا جا سکے۔ دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ بیانات محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے الزامات ماضی میں دیگر ممالک میں بھی لگائے جاتے رہے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
دستاویزات کے مطابق حکومتی اراکین جلد ہی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے تحت نئی حلقہ بندیوں پر نظرِ ثانی کے لیے ایک نیا پینل تشکیل دیا جائے گا۔ اس پینل میں حکومتی ارکان کی اکثریت ہوگی، جو مجوزہ تبدیلیوں کی نگرانی کرے گی۔
گزشتہ ماہ پیش کی گئی پہلی رپورٹ میں واضح اختلافات سامنے آئے تھے۔ اس رپورٹ میں بعض ارکان نے شہری اور دیہی حلقوں کو یکجا کرنے کی تجویز دی، جسے اکثریتی ارکان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نمائندگی کا توازن بگڑ سکتا ہے اور دیہی علاقوں کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
پینل کے سربراہ نے ایک سمجھوتے کے طور پر تجویز دی کہ صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد بڑھا کر اکانوے کر دی جائے، تاکہ آبادی میں اضافے کے تناظر میں بہتر نمائندگی ممکن ہو سکے۔ یاد رہے کہ دو ہزار سترہ کے بعد صوبے کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک طرف حکومت اسے انتظامی ضرورت قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حزبِ اختلاف اسے جمہوری عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش سمجھ رہی ہے۔