کینیڈا میں سکھ برادری کے خلاف نفرت اور امتیازی سلوک پرکے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے
جہاں ایک نئی رپورٹ میں چند برسوں کے دوران ایسے واقعات میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ورلڈ سکھ آرگنائزیشن آف کینیڈا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 80 فیصد سے زائد افراد نے اس بات سے اتفاق کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں سکھ مخالف نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس جائزے کے لیے 2025 کے آغاز میں تقریباً 1600 سکھ کینیڈین شہریوں سے معلومات حاصل کی گئیں۔
خالصتان کے حق میں ریفرنڈم آج میلبورن میں ہوگا،تصادم کا خدشہ
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سکاربورو کی ایک طالبہ سکھمنی نے انکشاف کیا کہ اسے اپنی پگڑی کی وجہ سے مذاق اور نازیبا تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے مطابق اس کی شناخت، بشمول پگڑی، خوراک کی عادات اور ظاہری شکل کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جس سے اس کے اعتماد پر منفی اثر پڑا ہے۔
اسی نوعیت کے تجربات دیگر افراد نے بھی بیان کیے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ شماریات کینیڈا کے اعداد و شمار بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں، جن کے مطابق نفرت پر مبنی واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خصوصاً جنوبی ایشیائی نژاد افراد کے خلاف۔
مزید برآں انسٹی ٹیوٹ برائے تزویراتی مکالمہ کی رپورٹ میں آن لائن نفرت انگیز مواد میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق پگڑی جیسی نمایاں مذہبی علامات افراد کو آسان ہدف بنا دیتی ہیں۔
رپورٹ میں وفاقی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نسل پرستی کے خلاف آئندہ حکمت عملی میں سکھ مخالف نفرت کو واضح طور پر شامل کرے اور اس حوالے سے آگاہی مہمات کو فروغ دے تاکہ اس بڑھتے ہوئے مسئلے کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔