اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری کے میئر نے شہر کی رہائشی حکمت عملی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، جب وفاقی دارالحکومت اوٹاوا کی جانب سے رہائشی تیز رفتار فنڈ کے تحت ایک اور قسط جاری کی گئی۔
اس تازہ ادائیگی کی مالیت پینسٹھ ملین ڈالر سے زائد ہے، جو ملک بھر کے شہروں میں رہائش کی تعمیر کو تیز کرنے اور آبادی کی گنجائش بڑھانے کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔
کیلگری کو اس پروگرام کے تحت اب تک چار میں سے تین قسطیں موصول ہو چکی ہیں۔ تاہم میئر جیرومی فارکس کے مطابق آخری قسط کے حصول کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال آخری ادائیگی حاصل کرنے کے لیے شہر کو ایسا منصوبہ پیش کرنا ہوگا جس کے تحت زیادہ تر رہائشی پلاٹوں پر کم از کم چار یونٹس کی تعمیر کی اجازت دی جا سکے۔
میئر نے مزید بتایا کہ اس وقت شہر کے تقریباً نصف رہائشی علاقوں میں ہی اس سطح کی کثافت کی اجازت موجود ہے۔ آنے والے مہینوں میں سٹی کونسل کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس شرط کو کیسے پورا کیا جائے۔
یہ فنڈ چار ارب ڈالر کے وفاقی اقدام کا حصہ ہے، جسے کینیڈا کے رہائشی ادارے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد بلدیاتی اداروں کو براہ راست مالی مدد فراہم کرنا ہے تاکہ کاغذی کارروائی میں کمی، آبادی کی گنجائش میں اضافہ اور نئے گھروں کی تعمیر میں تیزی لائی جا سکے۔
وارڈ دس کے کونسلر آندرے شابو نے کہا کہ وہ وفاقی شرط پوری کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے مطابق اس کے لیے لچکدار حکمت عملی اپنانا ضروری ہے، خاص طور پر حال ہی میں شہر میں یکساں زوننگ قانون کے خاتمے کے بعد۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے شہر بھر کی اوسط کے حساب سے کوئی حل نکالا جائے، بجائے اس کے کہ ہر پلاٹ پر لازمی طور پر چار یونٹس کی شرط عائد کی جائے۔
کونسلر ڈین میکلین نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی زوننگ تبدیلی شہریوں کے لیے قابل قبول ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ضروری ہوا تو وہ ایسی ادائیگی سے بھی دستبردار ہونے کو ترجیح دیں گے جو غیر مناسب شرائط کے ساتھ مشروط ہو۔
واضح رہے کہ اسی ماہ کے آغاز میں سٹی کونسل نے آٹھ روزہ عوامی سماعتوں کے بعد یکساں زوننگ قانون کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ دو ہزار چوبیس کے اس قانون کے تحت پہلے صرف ایک گھر کی اجازت والے علاقوں میں مختلف اقسام کے مکانات جیسے قطار نما گھر اور مشترکہ رہائش کی اجازت دی گئی تھی، جس کا مقصد رہائشی قلت پر قابو پانا تھا۔
نئے فیصلے کے تحت چار اگست سے زوننگ میں تبدیلیاں نافذ ہوں گی، جبکہ اس تاریخ سے پہلے جمع کرائی گئی درخواستوں پر موجودہ قوانین کے تحت کارروائی جاری رہے گی۔ اس کے بعد ہر نئی ترقی کے لیے الگ سے منظوری درکار ہوگی۔
اب شہر کو وفاقی شرائط پوری کرنے کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی تاکہ آخری قسط حاصل کی جا سکے۔ توقع ہے کہ اس معاملے پر بحث پورے سال جاری رہے گی، کیونکہ انتظامیہ کو رہائشی ضروریات اور شہری خدشات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔