اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال میں اتوار کے روز نوجوانوں کے لیے ایک اہم اور بامقصد اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں سماجی تنظیم نے سابق پیشہ ور کھلاڑیوں اور کاروباری شخصیات کے تعاون سے ایک روزہ پروگرام کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب سینٹ ہنری کے علاقے میں واقع ایک معروف مقام پر ہوئی، جہاں نوجوانوں، اساتذہ، والدین اور کوچز کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد نئی نسل کو مثبت سمت دینا، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں مستقبل کے مختلف مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔ اس دوران مکالماتی نشستیں اور عملی تربیتی سرگرمیاں منعقد کی گئیں تاکہ نوجوان اپنی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو بہتر انداز میں پہچان سکیں۔
اس اجتماع کے منتظم ڈینبرک ریڈ نے بتایا کہ انہوں نے عالمی شہرت رکھنے والے ایک مصنف، کہانی نویس اور تشہیری ماہر کو خصوصی طور پر مدعو کیا، جنہوں نے نوجوان کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی خاص خوبی ضرور ہوتی ہے، اور کامیابی کا راز اسی خوبی کو پہچان کر اسے درست سمت میں استعمال کرنے میں ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنے شوق اور دلچسپیوں پر توجہ دیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کس میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان اپنی اصل صلاحیت کو پہچان لیں تو وہ نہ صرف کھیل بلکہ دیگر شعبوں میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
منتظم کے مطابق اس پروگرام کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ نوجوانوں کو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے براہِ راست بات چیت کا موقع ملا۔ اس سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ اگر وہ کھیل کے میدان میں آگے نہ بڑھ سکیں تو کاروبار یا دیگر پیشوں میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
تقریب کے دوران تعلیم کی اہمیت، رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت جیسے اہم موضوعات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ایک شریک نوجوان نے کہا کہ کامیاب کاروباری افراد کی کہانیاں سن کر اس کے ذہنی دباؤ میں کمی آئی، کیونکہ اسے احساس ہوا کہ کامیابی کے لیے صرف تعلیمی نتائج ہی فیصلہ کن نہیں ہوتے۔
ایک اور شریک نے کہا کہ رہنمائی حاصل کرنا ایک ایسا پہلو ہے جس کے بارے میں وہ پہلے بھی سوچتا رہا ہے، مگر اس پروگرام کے بعد وہ اس پر سنجیدگی سے عمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ مستقبل میں بہتر فیصلے کر سکے۔
یہ اجتماع اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر نوجوانوں کو درست رہنمائی، مثبت ماحول اور سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔