اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں ذہنی صحت اور منشیات سے متعلق امور کے وزیر رک ولسن ایک سنگین تنازع میں گھر گئے ہیں، جب انہوں نے صوبائی اسمبلی میں ایک ایسا دعویٰ کیا جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔ اس معاملے نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا ہے۔
اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر نے کہا تھا کہ انہوں نے نگرانی میں منشیات استعمال کرنے کے مراکز میں لوگوں کو اپنے سامنے مرتے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مناظر نے انہیں ذہنی طور پر متاثر کیا اور یہ مراکز لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے انہیں مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے اس بیان نے فوری طور پر شدید ردعمل پیدا کیا۔
اپوزیشن کی نمائندہ جینیٹ ایریمنکو نے اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف البرٹا بلکہ پورے کینیڈا میں ایسے کسی بھی مرکز میں ایک بھی موت کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ ان کے مطابق وزیر کا بیان حقائق کے خلاف اور عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
بعد ازاں وزیر کے دفتر نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد کے بے ہوش ہونے یا انتہائی خراب حالت میں آنے سے ایسا محسوس ہو سکتا ہے جیسے وہ مر رہے ہوں، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس بیان کے ساتھ ہی وزیر کے پہلے دعوے کی تردید ہو گئی۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ایک تنظیم نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ حکومت کو خوف پھیلانے کے بجائے درست اور سائنسی بنیادوں پر معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر فوری طور پر معافی مانگیں یا اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ادھر اپوزیشن نے وزیر کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک اہم شعبے کے ذمہ دار ہیں اور عوامی وسائل کی بڑی مقدار ان کے اختیار میں ہے، اس لیے انہیں ہر بیان دیتے وقت مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کو سنجیدگی سے لینے اور حقائق پر مبنی پالیسی اپنانے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ عوام کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں اور صحت کے نظام پر اعتماد برقرار رہے۔