نووا اسکاٹیا میں ایک کمیونٹی نے دو کمسن بہن بھائیوں کی گمشدگی کو ایک سال مکمل ہونے پر ریلی نکالی اور ان کی بازیابی کے لیے نئے سرے سے آواز بلند کی ہے۔
یہ ریلی اس لیے منعقد کی گئی تاکہ اس بات کو اجاگر کیا جا سکے کہ چھ سالہ لیلیٰ اور چار سالہ جیک سلیوان آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔لیلیٰ اور جیک کو دو ہزار پچیس میں دو مئی کے روز نووا اسکاٹیا کے علاقے لینڈز ڈاؤن اسٹیشن میں واقع اپنے گھر سے لاپتہ رپورٹ کیا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا گیا تھا کہ دونوں بچے ممکنہ طور پر گھر کے اردگرد کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد وسیع پیمانے پر تلاش کی گئی اور مختلف اداروں نے مشترکہ طور پر تحقیقات بھی کیں، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ہفتے کے روز یہ ریلی نووا اسکاٹیا کے علاقے اسٹیلارٹن میں واقع رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے دفتر کے باہر منعقد ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں مقامی افراد نے شرکت کی۔ اس اجتماع کا مقصد بچوں کی گمشدگی پر انصاف اور جوابات کا مطالبہ کرنا تھا۔
ریلی کے منتظم کینٹ کاربیٹ اور بچوں کی دادی بیلینڈا گرے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود خاندان کے پاس اب بھی کوئی جواب نہیں ہے اور سوالات بدستور موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے نے خاندان اور کمیونٹی دونوں کو گہری تکلیف میں مبتلا کر رکھا ہے۔تقریب میں مختلف افراد نے تقاریر کیں اور بچوں کی تلاش کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک لیلیٰ اور جیک کے بارے میں حقیقت سامنے نہیں آ جاتی۔