اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیر اعظم Mark Carney آج دارالحکومت Ottawa میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نئے گورنر جنرل کے نام کا اعلان کرنے والے ہیں۔ یہ اہم عہدہ بادشاہ کے نمائندے کے طور پر کام کرتا ہے اور اس کا تقرر وزیر اعظم کے مشورے سے کیا جاتا ہے، جبکہ مدتِ ملازمت عموماً پانچ سال ہوتی ہے۔
موجودہ گورنر جنرل Mary Simon، جو کینیڈا کی پہلی مقامی نژاد خاتون ہیں، جولائی میں اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کر لیں گی۔ حالیہ مہینوں میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ وہ اور ان کے شریکِ حیات نئی رہائش کی تلاش میں ہیں، جس سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئیں کہ ان کی مدت اختتام کے قریب ہے۔
گزشتہ عرصے میں میری سائمن کو فرانسیسی زبان میں مہارت نہ ہونے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ انگریزی اور انوکٹیٹ زبان بولتی ہیں اور اگرچہ انہوں نے فرانسیسی سیکھنے کی کوشش کی ہے، تاہم وہ اس میں مکمل روانی حاصل نہیں کر سکیں۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم مارک کارنی پہلے ہی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ آئندہ گورنر جنرل دونوں سرکاری زبانوں میں مہارت رکھے گا۔
اس معاملے پر حکومتی اراکین نے بھی اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔ مونٹریال سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان Anthony Housefather کا کہنا ہے کہ گورنر جنرل، جو ملک کی علامت ہوتا ہے، کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں سرکاری زبانوں پر عبور رکھتا ہو۔ ان کے مطابق یہ ایک نہایت اہم تقاضا ہے۔
اسی طرح اونٹاریو سے رکن پارلیمان Dominique O’Rourke نے کہا کہ ملک کو ایسے شخص کی ضرورت ہے جو قوم کو متحد کر سکے، کامیابیوں کا جشن منانے میں کردار ادا کرے اور چیلنجز کا سامنا وقار اور حوصلے کے ساتھ کرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والا تقرر نہ صرف علامتی اہمیت کا حامل ہوگا بلکہ یہ کینیڈا کی لسانی اور ثقافتی ترجیحات کی عکاسی بھی کرے گا۔ آنے والے اعلان پر ملک بھر کی نظریں مرکوز ہیں، اور یہ فیصلہ مستقبل کی نمائندہ قیادت کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔