اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف جاری کارروائیوں سے متعلق ایک منصوبے کو مختصر مدت کے لیے روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف مہم میں حاصل ہونے والی “غیر معمولی عسکری کامیابی” اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ ممکنہ حتمی معاہدے کی طرف پیش رفت کے باعث ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باہمی اتفاق سے یہ طے پایا ہے کہ اگرچہ ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی، تاہم آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے سیکیورٹی منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا جائے گا۔ اس وقفے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
منصوبے کی تفصیل
اس منصوبے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے عالمی تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ امریکی صدر نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے اس منصوبے میں رکاوٹ ڈالی تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اس منصوبے کے دوران آبنائے ہرمز میں موجود ایرانی تیز رفتار کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق بعض تجاویز کو مسترد کر دیا گیا تھا۔