البرٹا میں ذاتی معلومات کے رسائی معاملے پر سیاسی ہنگامہ، حکومتی جماعت وضاحت دینے پر مجبور

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں ذاتی معلومات کے ممکنہ غیر قانونی استعمال سے متعلق ایک اہم تنازع سامنے آیا ہے جس نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔

صوبے کی حکومتی جماعت کے ارکان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ان کے عملے کے کچھ افراد ایک ایسے اجلاس میں شریک ہوئے جہاں مبینہ طور پر حساس ذاتی معلومات کے ذخیرے تک رسائی کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

حکومتی جماعت کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے عملے کے کچھ افراد نے مذکورہ اجلاس میں شرکت کی تھی، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اجلاس کے منتظمین نے واضح طور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ پیش کی جانے والی معلومات قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں شریک عملے کو اس وقت کسی غیر قانونی سرگرمی کا شبہ نہیں تھا اور وہ عمومی طور پر سیاسی نوعیت کی تقریبات میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب حزب اختلاف کی جماعت نے دو افراد کی ممکنہ شرکت پر سوالات اٹھائے۔ حزب اختلاف کے قائد نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایک ویڈیو موجود ہے جس میں ایک آن لائن اجلاس کے دوران دو ایسے نام ظاہر ہوتے ہیں جو حکومتی جماعت سے منسلک افراد کے ناموں سے مشابہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کی وزیر اعلیٰ فوری طور پر وضاحت کریں کہ آیا یہ افراد واقعی حکومتی جماعت یا اس کے عملے کا حصہ ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب حکومتی جماعت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معروف نام کو بنیاد بنا کر غلط تاثر دیا جا رہا ہے۔ جماعت کے مطابق جس نام کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ ان کے مرکزی عہدیدار کا نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہو سکتا ہے، اور متعلقہ عہدیدار نے نہ تو اس اجلاس میں شرکت کی اور نہ ہی اس نوعیت کی کسی سرگرمی میں شامل رہے۔

مزید برآں، حکومتی جماعت نے یہ بھی واضح کیا کہ زیر بحث عملے کے فرد کی شناخت کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر نے بھی اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے کے بجائے جماعت کے مؤقف کی تائید کی ہے۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب ذاتی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے پہلے ہی مختلف تحقیقات جاری ہیں، جس کے باعث عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات میں کوئی صداقت پائی گئی تو اس کے دور رس سیاسی اور قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں