اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی خفیہ تحقیقاتی ادارے کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں اور شدید بمباری کے باوجود ایران اپنی عسکری صلاحیت کا بڑا حصہ محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق انٹیلیجنس جائزے میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے تقریباً ستر فیصد میزائل ذخیرے اور پچھتر فیصد موبائل میزائل لانچرز برقرار رکھے ہوئے ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی فوج نے زیرِ زمین قائم متعدد میزائل تنصیبات کو دوبارہ فعال کر دیا ہے، جبکہ متاثرہ ہتھیاروں کی مرمت کے ساتھ ساتھ نئے اسلحہ جاتی نظام کی تیاری بھی جاری ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کو فوری طور پر شدید نقصان دہ سطح پر محسوس نہیں کرے گا، بلکہ موجودہ حالات میں کم از کم تین سے چار ماہ تک مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل تباہ کر دیے گئے ہیں اور صرف معمولی صلاحیت باقی رہ گئی ہے۔
تاہم خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ نے اس مؤقف سے مختلف تصویر پیش کی ہے، جس سے دونوں بیانیوں میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔
امریکی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایرانی قیادت توقع سے زیادہ سخت مزاحمت دکھا رہی ہے۔ ایک اہلکار کے مطابق حالیہ صورتحال کے بعد ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت نے پسپائی کے بجائے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔