اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ جاری سفارتی مذاکرات کا مقصد کسی دباؤ کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ قومی حقوق اور ملکی مفادات کا بھرپور دفاع کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ آزادی، خودمختاری اور عزتِ نفس کو مقدم رکھا ہے اور دشمن کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ایرانی تاریخ اور تہذیب کا حصہ نہیں۔
ایک اہم خطاب میں ایرانی صدر نے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی کوششیں صرف اس لیے جاری ہیں تاکہ ایران کے جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا جو قومی مفادات کے خلاف ہو۔
مسعود پزشکیان نے عالمی طاقتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی غیرقانونی ناکہ بندی جاری رکھنا کھلی وعدہ خلافی اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق بعض قوتیں ایک جانب مذاکرات اور امن کی بات کرتی ہیں جبکہ دوسری جانب معاشی دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے ہمیشہ سخت حالات کا مقابلہ صبر اور استقامت سے کیا ہے اور مستقبل میں بھی ملک کے دفاع اور ترقی کے لیے متحد رہیں گے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز کے اطراف جنگی جہازوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حساس سمندری علاقے میں غیرملکی جنگی جہازوں کی تعیناتی کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طاقت کے مظاہرے اور عسکری دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے منفی اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک اپنی خودمختاری، سمندری حدود اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔