اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کوکین اسمگلنگ کے مبینہ نیٹ ورک سے منسلک انمول پنکی کی گرفتاری کے معاملے میں نئے اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد پورے کیس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انمول پنکی کو لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں اسے کراچی منتقل کیا گیا، تاہم کراچی میں اس کی گرفتاری سے متعلق پولیس کے مؤقف اور کارروائی پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انمول پنکی مبینہ طور پر لاہور میں رہتے ہوئے ملک بھر میں منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی تھی، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے طویل عرصے تک اس سرگرمی سے لاعلم رہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایک حساس ادارے نے تکنیکی نگرانی کے ذریعے اس کا سراغ لگایا، جس میں موبائل فون کی سرگرمی بھی معاون ثابت ہوئی۔
مزید بتایا جا رہا ہے کہ گرفتاری کے بعد اسے کراچی پولیس کے حوالے کیا گیا، جہاں اس کے خلاف پہلے سے مقدمات زیرِ التوا تھے۔ تاہم بعد میں کراچی کے علاقے گارڈن میں ایک فلیٹ پر چھاپے کے دوران اس کی گرفتاری کے دعوے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
اس چھاپے کی مبینہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار فلیٹ میں داخل ہوتے ہیں، تلاشی لی جاتی ہے اور منشیات و اسلحہ برآمد ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جس کے بعد اسے باضابطہ طور پر گرفتار ظاہر کیا جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اصل گرفتاری لاہور میں ہوئی یا کراچی میں، اور دونوں شہروں میں بیان کردہ کارروائیوں میں تضاد کیوں پایا جاتا ہے۔