اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے نئی قومی بجلی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئندہ برسوں میں ملک کے بجلی نظام کی صلاحیت کو تقریباً دوگنا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اوٹاوا میں اعلان کے دوران انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری معاشی تبدیلیاں، توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب، مصنوعی ذہانت کی ترقی اور ماحولیاتی دباؤ کے باعث کینیڈا کو اپنے بجلی کے نظام کو مزید مضبوط اور جدید بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کینیڈا کی بڑی حد تک بجلی صاف توانائی سے پیدا کی جا رہی ہے، تاہم مستقبل میں طلب میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے جس کے لیے پہلے سے تیاری ضروری ہے۔
حکومت کے مطابق اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں بجلی پیدا کرنے والے نئے منصوبے، ترسیلی لائنوں کی توسیع اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کے درمیان بجلی کے نظام کو مزید مربوط کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں بجلی کی کمی کو دوسرے علاقوں سے پورا کیا جا سکے۔
مارک کارنی نے کہا کہ اس منصوبے سے ملک میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور توانائی کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری آئے گی۔ اندازوں کے مطابق آئندہ برسوں میں بڑے پیمانے پر ہنرمند کارکنوں کی ضرورت ہوگی تاکہ اس نظام کو تعمیر اور چلایا جا سکے۔
حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ گھروں میں توانائی بچانے اور بجلی سے چلنے والے نظام اپنانے کے لیے عوام کو مالی مدد دی جائے گی تاکہ لوگ مہنگے ایندھن سے ہٹ کر نسبتاً سستی اور صاف توانائی کی طرف جا سکیں۔
نئی حکمتِ عملی میں شمسی ہوا، آبی اور جوہری توانائی کے منصوبوں کو بھی فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ قدرتی گیس کو عبوری طور پر توانائی کے نظام میں برقرار رکھا جائے گا تاکہ بجلی کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کینیڈا کو توانائی کے شعبے میں زیادہ خودکفیل، جدید اور عالمی سطح پر مضبوط ملک بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔