کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ صوبہ البرٹا ملک کے مستقبل کا نہایت اہم حصہ ہے اور وفاقی حکومت پورے ملک کو مزید مضبوط بنانے کیلئے البرٹا کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب البرٹا میں ملک سے علیحدگی کے معاملے پر عوامی رائے لینے کی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔دارالحکومت اوٹاوا میں گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور حکومت تمام صوبوں کے تعاون سے ملک کو مزید مستحکم بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہم سب مل کر ایک بہتر اور مضبوط ریاست کی تعمیر کر رہے ہیں، جس میں البرٹا کا کردار انتہائی اہم ہے۔”وزیرِ اعظم نے پارلیمانی عمارت کی جاری مرمت اور تعمیرِ نو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح اس تاریخی عمارت کو نئے انداز میں بہتر بنایا جا رہا ہے، اسی طرح پورے ملک کو بھی مزید مضبوط اور متحد بنایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام صوبائی قیادت کے ساتھ مل کر قومی یکجہتی، معاشی استحکام اور ترقی کیلئے کام جاری رکھے گی۔دوسری جانب البرٹا کی صوبائی سربراہ ڈینیئل اسمتھ نے اعلان کیا ہے کہ انیس اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی جس میں عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا صوبے میں ملک سے علیحدگی کے معاملے پر باقاعدہ عوامی رائے لی جائے یا نہیں۔ اس اعلان کے بعد ملکی سیاست میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے اور مختلف سیاسی و سماجی حلقے اس معاملے پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔مارک کارنی نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ “بہتر البرٹا اور بہتر کینیڈا” کی تعمیر کیلئے تمام صوبائی حکومتوں اور پارلیمان کے ارکان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق البرٹا میں علیحدگی سے متعلق بڑھتی بحث نے ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے، جبکہ وفاقی حکومت قومی اتحاد برقرار رکھنے کیلئے متحرک دکھائی دے رہی ہے۔