اردور ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جنوبی کوریا کی جدید آبدوز ’’ROKS دوسان آن چانگ ہو‘‘ 14 ہزار کلومیٹر کا طویل سمندری سفر مکمل کرنے کے بعد کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے ساحلی شہر وکٹوریہ پہنچ گئی۔
اس دورے کو جنوبی کوریا کی دفاعی صنعت کی بڑی کامیابی اور کینیڈا کے مستقبل کے آبدوز منصوبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔جنوبی کوریا کی کمپنی ہنوا اوشین اس جدید آبدوز کے ذریعے کینیڈا کے اربوں ڈالر مالیت کے نئے آبدوز پروگرام کے لیے اپنی پیشکش کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آبدوز وکٹوریہ میں قیام کے دوران رائل کینیڈین نیوی کے ساتھ مشترکہ اینٹی سب میرین جنگی مشقوں میں بھی حصہ لے گی۔تین ہزار ٹن وزنی KSS-3 کلاس کی یہ جدید آبدوز بحرالکاہل عبور کرکے کینیڈا پہنچی ہے۔
ماہرین کے مطابق اتنا طویل سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ آبدوز طویل مدت تک سمندر میں مؤثر انداز میں آپریشن کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔کینیڈا کی حکومت آئندہ چند ہفتوں میں فیصلہ کر سکتی ہے کہ نئے آبدوز منصوبے کے لیے جنوبی کوریا کی کمپنی ہنوا اوشین کی پیشکش قبول کی جائے یا جرمن کمپنی تھائسن کروپ میرین سسٹمز کو ترجیح دی جائے۔کینیڈین بحریہ آئندہ پندرہ برسوں میں بارہ نئی آبدوزیں خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ان آبدوزوں کو بحرالکاہل، بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک کے حساس علاقوں میں تعینات کیا جائے گا، جہاں انہیں طویل عرصے تک برف کے نیچے کام کرنے کی صلاحیت درکار ہوگی۔میری ٹائم فورسز پیسفک اور جوائنٹ ٹاسک فورس پیسیفک کے کمانڈر ریئر ایڈمرل ڈیوڈ پیچل نے جنوبی کوریا کے اس دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ رائل کینیڈین نیوی اپنے مستقبل کے بحری منصوبوں کے حوالے سے پُرجوش ہے۔