اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی بدھ اور جمعرات کو امریکا کے شہر نیویارک شہر کا دورہ کریں گے جہاں وہ مختلف عالمی کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور کینیڈا میں سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش کریں گے۔
یہ دورہ ان کی حکومت کی اُس مستقل حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش بنانا ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ اس دورے کے دوران وزیر اعظم مختلف بڑی کمپنیوں کے سربراہان، کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اور مالیاتی ماہرین سے ملاقات کریں گے تاکہ انہیں کینیڈا کو سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ ملک کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ اگرچہ مخصوص افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم توقع ہے کہ یہ ملاقاتیں عالمی سطح کے اقتصادی حلقوں پر مشتمل ہوں گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اپنے لازمی جائزے کے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اس موقع پر امریکا کی جانب سے عائد بعض تجارتی پابندیوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات پورے خطے کی معیشت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی بیان کے مطابق وزیر اعظم کارنی جمعرات کو نیویارک کے ایک معروف اقتصادی فورم سے بھی خطاب کریں گے، جہاں وہ کینیڈا کی نئی اقتصادی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالیں گے اور یہ وضاحت کریں گے کہ حکومت کس طرح معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ اس خطاب میں عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ کینیڈا طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور محفوظ ملک ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد غیر یقینی عالمی معاشی صورتحال میں اعتماد بحال کرنا اور بڑے سرمایہ کاروں کو کینیڈا کی طرف راغب کرنا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ توانائی، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مالیاتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ تجارتی تنازعات اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی اقتصادی صورتحال کے پیش نظر اس قسم کے دورے کینیڈا کی خارجہ معاشی پالیسی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت امید رکھتی ہے کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں نہ صرف نئے سرمایہ کاری معاہدے سامنے آئیں گے بلکہ کینیڈا کی عالمی معیشت میں پوزیشن بھی مزید مضبوط ہوگی۔