ماحولیاتی اصلاحات یا پسپائی؟ کینیڈین حکومت کو سخت تنقید کا سامنا

کینیڈا کی وفاقی حکومت کو حالیہ ماحولیاتی پالیسی تبدیلیوں کے بعد بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

حکومت اب تک یہ واضح نہیں کر سکی کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں ملک کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور مستقبل میں اخراج میں کمی کے اہداف کیسے حاصل کیے جائیں گے۔

پارلیمانی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں ماحولیات کی وزیر جولی ڈیبروسن سے اس حوالے سے متعدد سوالات کیے گئے۔ بلاک کیوبیکوا کے رکن پارلیمنٹ پیٹرک بونین نے حکومت سے استفسار کیا کہ آیا اس کے پاس ایسے اعداد و شمار یا ماڈلز موجود ہیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ کینیڈا ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف پیش رفت کر رہا ہے یا پھر ماہرین کے خدشات کے مطابق پیچھے ہٹ رہا ہے۔

وزیر ماحولیات نے جواب میں دسمبر میں جاری کیے گئے میتھین گیس کے اخراج کو محدود کرنے والے ضوابط کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت اخراج کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم جب مجموعی پالیسی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ کوئی واضح اعداد و شمار پیش نہ کر سکیں۔

اس موقع پر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے محکمے کی نائب وزیر مولی جانسن نے اعتراف کیا کہ حکومت ابھی مختلف پالیسی فیصلوں کے مجموعی اثرات کا جائزہ لینے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے اس وقت تمام حالیہ فیصلوں کو یکجا کرکے جامع ماڈلنگ تیار کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں واضح تصویر پیش کی جا سکے۔

دوسری جانب وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کو ماحولیاتی پالیسیوں میں نرمی اختیار کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی روز صارفین پر عائد کاربن ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں برقی گاڑیوں کی فروخت کے لازمی ہدف کو بھی ختم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ تیل و گیس کمپنیوں کے اخراج کی حد بندی کے خاتمے، گرین واشنگ سے متعلق قوانین میں تبدیلی اور فوسل فیول صنعت کے لیے مراعات میں اضافے جیسے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے۔

ان فیصلوں کو صنعتی حلقوں کی جانب سے سراہا گیا، تاہم ماحولیاتی ماہرین اور ماحول دوست تنظیموں نے انہیں کینیڈا کے موسمیاتی اہداف کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر ماحولیات اسٹیون گلبیو نے بھی حالیہ دنوں میں حکومتی پالیسیوں پر اختلاف کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ قومی بجلی حکمت عملی اور لاکھوں گھروں میں توانائی بچانے والی بہتریوں جیسے منصوبوں کے ذریعے اخراج میں کمی لانے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم ان منصوبوں کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکیں، جس کے باعث ماہرین ان کے حقیقی اثرات کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں جاری ہونے والی سرکاری پیش رفت رپورٹ کے مطابق بہترین ممکنہ صورتحال میں بھی کینیڈا 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں صرف 28 فیصد کمی حاصل کر سکے گا، جبکہ ملک کے طویل المدتی ماحولیاتی اہداف اس سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پر اب یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اپنی نئی پالیسیوں کے اثرات سے متعلق واضح اعداد و شمار اور قابلِ اعتماد منصوبہ بندی عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں