اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایک زمانے میں بزرگوں کی خوراک سمجھی جانے والی ڈبہ بند سارڈین مچھلی آج سوشل میڈیا کی بدولت نوجوان نسل کی نئی پسندیدہ غذا بن چکی ہے۔
غذائیت سے بھرپور اور نسبتاً کم قیمت ہونے کے باعث سارڈین کو اب ’’سستی مگر پُرکشش عیش و آرام کی غذا‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔حالیہ رجحانات کے مطابق ناشتے میں سارڈین استعمال کرنے سے متعلق تلاش میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز پر ہزاروں صارفین سارڈین سے تیار کی جانے والی مختلف تراکیب، اسنیکس اور خصوصی پلیٹوں کی نمائش کر رہے ہیں۔ بعض اثر و رسوخ رکھنے والے افراد تو اسے جلد کی خوبصورتی اور جسمانی توانائی کے لیے بھی مفید قرار دے رہے ہیں۔ماہرین غذائیت کے مطابق سارڈین اعلیٰ معیار کے پروٹین، اومیگا تھری چکنائی، وٹامن ڈی، وٹامن بی بارہ، سیلینیم اور کیلشیم کا بہترین ذریعہ ہے۔ چونکہ یہ چھوٹی مچھلی ہوتی ہے، اس لیے اس میں پارے کی مقدار بھی بڑی مچھلیوں کے مقابلے میں کم پائی جاتی ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ وبا کے بعد لوگوں کی دلچسپی محفوظ اور دیرپا غذاؤں میں بڑھی، جبکہ خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور پروٹین سے بھرپور غذاؤں کے رجحان نے بھی سارڈین کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔ خوبصورت پیکنگ اور جدید اندازِ تشہیر نے اس ڈبہ بند مچھلی کو ایک نئی شناخت دی ہے۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کسی ایک غذا کو معجزاتی علاج سمجھنا درست نہیں۔
حالیہ دنوں میں ’’سارڈین میکسنگ‘‘ کے نام سے ایک رجحان بھی سامنے آیا ہے جس میں بعض افراد بڑی مقدار میں سارڈین کھانے کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق متوازن غذا ہی صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہفتے میں ایک یا دو بار سارڈین کا استعمال صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ استعمال کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔ ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سوشل میڈیا کے رجحانات کی بجائے متوازن اور متنوع غذا کو ترجیح دی جائے۔