اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایرانی صدارتی دفتر نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق رپورٹس کی صحت کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسعود پزشکیان معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ایرانی صدر نے خود براہ راست بیانات جاری کیے جن میں انہوں نے ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔یہ تردید ان رپورٹس اور افواہوں کی گردش کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ایران کو درپیش پیچیدہ سیاسی اور معاشی حالات کے تناظر میں مسعود پزشکیان کے دستبردار ہونے یا استعفی دینے کے امکان کا ذکر کیا گیا تھا۔ایرانی میڈیا کی جانب سے نقل کیے گئے بیانات میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ میں میدان میں ڈٹا ہوا ہوں اور کسی بھی واقعے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے موجودہ مرحلے کے دوران کام جاری رکھنے سے اپنے وابستہ رہنے پر زور دیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران مشکلات سے بھرے راستے پر گامزن ہے۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ایران کو معاشی، سیاسی اور سکیورٹی کی سطحوں پر چیلنجز درپیش ہیں۔
ایرانی صدر نے بحرانوں سے نمٹنے میں اپنی حکومت کے طریقہ کار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایرانی عوام کے سامنے مسائل کو ان کی اصل شکل میں پیش کرتے ہیں۔ اس بیان سے مسعود پزشکیان نے موجودہ چیلنجز کے حجم کے بارے میں عوامی رائے عامہ کے ساتھ سچائی اور شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی حکومت کو معاشی حالات، گزشتہ مہینوں کے دوران ملک میں ہونے والی جنگ کے اثرات اور اس کے ساتھ ساتھ کئی متنازع معاملات کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے جاری رہنے کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے دبا کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی انفو اور میڈیا رپورٹس نے پزشکیان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھا دی تھیں۔ تاہم بعد میں ایرانی صدارتی دفتر نے فوری طور پر ان قیاس آرائیوں کی قطعی تردید کر دی ہے۔مسعود پزشکیان کے بیانات کو ان کی سیاسی حیثیت کے بارے میں جاری بحث کو قابو میں کرنے اور ریاستی اداروں کے استحکام پر زور دینے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پزشکیان کے بیانات ایک ایسے وقت میں آئے جب ایران ایک حساس مرحلے سے گزر رہا جہاں معاشی، سکیورٹی اور سفارتی معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔