اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا ورلڈ کپ فائنل کے موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی سے ملاقات کے باوجود کینیڈا کو جنگلاتی آگ کے دھوئیں کے معاملے پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی ایک بار پھر دہرادی۔
ورلڈ کپ فائنل کے بعد جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، تاہم کینیڈا کو ایسی جنگلاتی آگ پر قابو پانا ہوگا جن کا دھواں امریکا تک پہنچ رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، "آپ کو ان آگوں کو روکنا ہوگا جو ہمارے ملک میں آکر ہماری فضا کو آلودہ کر رہی ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو کینیڈا کو ہرجانہ ادا کرنا چاہیے یا پھر ہم اس پر ٹیرف عائد کرسکتے ہیں۔”
مارک کارنی اور ان کی اہلیہ ڈیانا فاکس کارنی نے ورلڈ کپ فائنل ایک نجی سوٹ سے دیکھا، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو بھی موجود تھے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بھی کینیڈا پر "جان بوجھ کر غفلت” برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگلات کے ناقص انتظام اور خشک ملبہ نہ ہٹانے کے باعث جنگلاتی آگ کا دھواں امریکا پہنچ رہا ہے، جس سے امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
کینیڈا میں لگنے والی جنگلاتی آگ کے دھوئیں کے باعث اونٹاریو سمیت امریکی ریاستوں مشی گن، اوہائیو، الینوائے، نیویارک اور انڈیانا میں فضائی معیار سے متعلق انتباہات جاری کیے جاچکے ہیں۔تاہم یہ واضح نہیں کہ جنگلاتی آگ کے دھوئیں کو بنیاد بنا کر صدر ٹرمپ کینیڈا پر نئے ٹیرف کس قانونی اختیار کے تحت عائد کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا صاف توانائی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکا اس کے برعکس پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ادھر اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے بھی امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ گزشتہ سال کیلیفورنیا میں تباہ کن جنگلاتی آگ کے دوران کینیڈا نے بلا جھجک مدد فراہم کی تھی۔
ڈگ فورڈ نے کہا، "اچھے ہمسائے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، دھمکیاں نہیں دیتے۔ ایک دن ضرورت آپ کو بھی پڑ سکتی ہے اور ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آپ کی مدد کے لیے موجود ہوں گے۔”