اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو نہایت سخت اور تلخ انداز اختیار کر گئی، جس دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے۔
رپورٹ کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو “پاگل” اور “ناشکرا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملے جاری رہے تو اسرائیل بین الاقوامی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق وہ خود اس سے پہلے بھی مختلف مواقع پر اسرائیلی حکومت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
اسی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ اگر ان کی حمایت نہ ہوتی تو نیتن یاہو کو قانونی مشکلات کا سامنا ہو سکتا تھا، اور وہ ان کے مطابق ان کی سیاسی اور ذاتی سطح پر مدد کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابق امریکی صدر نے سخت لہجے میں یہ بھی کہا کہ اس وقت دنیا کی رائے عامہ اسرائیل کے خلاف جا رہی ہے اور بعض اقدامات ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جواب میں نیتن یاہو گفتگو کے دوران بار بار مختصر الفاظ میں “ٹھیک ہے، ٹھیک ہے” کہتے رہے اور معاملے کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور مختلف بین الاقوامی حلقے خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔