امریکہ کی جانب سے ممکنہ تجارتی دباؤ،کینیڈا میں جبری مشقت کے خلاف نئی قانون سازی کی تیاری

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت جلد ہی ایسی قانون سازی پیش کرے گی جس کا مقصد عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کی انتظامیہ نے ایک تحقیق کے بعد کینیڈا سمیت کئی ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اوٹاوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں پہلے سے جبری مشقت کے خلاف مضبوط قوانین موجود ہیں، تاہم حکومت چاہتی ہے کہ تجارت کے ذریعے کسی بھی صورت میں ایسی مصنوعات ملک میں داخل نہ ہوں جو انسانوں کی مجبوری یا کم عمر مزدوری کے ذریعے تیار کی گئی ہوں۔ ان کے مطابق حکومت اپنی تجارتی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اس عالمی مسئلے کے خاتمے میں کردار ادا کرے گی۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا، میکسیکو، برطانیہ اور بعض دیگر ممالک جبری مشقت کے خلاف قوانین کے نفاذ میں ناکام رہے ہیں، اسی لیے ان پر اضافی تجارتی محصولات لگائے جانے چاہئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بعض دیگر ممالک پر بھی زیادہ شرح سے محصولات عائد کیے جائیں جہاں اس مسئلے کے خلاف قوانین جزوی یا ناکافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام اس لیے ضروری ہے تاکہ امریکی مزدور عالمی سطح پر غیر منصفانہ مقابلے سے محفوظ رہ سکیں۔ تاہم یہ محصولات اس تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی اشیا پر لاگو نہیں ہوں گے جو کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان موجود ہے۔

کینیڈا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے پر اصولی طور پر امریکہ کے ساتھ تعاون کی خواہاں ہے اور آنے والے ہفتوں میں نئی قانون سازی پیش کی جائے گی۔ اس وقت کینیڈا میں پہلے سے ایسے قوانین موجود ہیں جو سپلائی چین میں جبری مشقت کی روک تھام کے لیے کمپنیوں کو سالانہ رپورٹنگ کا پابند بناتے ہیں، تاہم امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان قوانین پر عملدرآمد مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کینیڈا کی سرحدی ایجنسی پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی کارروائیوں کی تفصیلات اور اعداد و شمار شائع نہیں کرتی، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

سیاسی سطح پر بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اس مسئلے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مزید مضبوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں