اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سیاحت، روزگار اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے مانسہرہ سے کاغان، ناران اور چلاس تک 172 کلومیٹر طویل نئی موٹروے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ وفاقی وزیر مواصلات علیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے مانسہرہ سے کاغان، ناران، جھل کھنڈ اور چلاس تک جانے والی اس نئی موٹروے کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دی۔
منصوبے کے مطابق موٹروے کی مجموعی لمبائی 172 کلومیٹر ہوگی، جس کے مکمل ہونے کے بعد مانسہرہ سے چلاس تک کا فاصلہ تقریباً 120 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف سفر کا وقت کم ہوگا بلکہ علاقے میں سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
پروجیکٹ کو دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں مانسہرہ سے کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ تک موٹروے تعمیر کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں بابوسر ٹاپ سے چلاس تک سڑک کو موٹروے میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس منصوبے کا ایک اہم حصہ 13.5 کلومیٹر طویل بابوسر ٹنل ہوگی، جو پاکستان کی سب سے طویل سرنگ ہوگی۔ یہ سرنگ نہ صرف انجینئرنگ کا ایک بڑا کارنامہ ہوگی بلکہ خطے کے زمینی رابطوں میں بھی انقلاب برپا کرے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ موٹروے مغربی چین کو براہِ راست کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑنے میں مدد دے گی، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یہ راستہ بحیرہ عرب سے وسطی ایشیا تک سامان کی ترسیل کے لیے سب سے مختصر، تیز اور کم لاگت راستہ ثابت ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور خطے کی معاشی ترقی میں نمایاں بہتری آئے گی۔