اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک کی حکومت نے اسمبلی کے اجلاس کے اختتام سے چند روز قبل ایک نیا مسودۂ قانون پیش کر دیا ہے جس کے تحت فرانسیسی زبان کے تحفظ سے متعلق معروف قانون کو بالغ تعلیم اور فنی تربیت کے اداروں تک توسیع دی جائے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صوبے بھر میں افرادی قوت کی تربیت اور فنی تعلیم کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
فرانسیسی زبان کے وزیر ژاں فرانسوا روبیرژ نے جمعرات کو بل نمبر آٹھ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد نئے آنے والے افراد میں فرانسیسی زبان کے استعمال کو فروغ دینا اور موجودہ قانون میں موجود ایک خلا کو پُر کرنا ہے۔ ان کے مطابق بالغ تعلیم اور فنی تربیت کے شعبے اب تک فرانسیسی زبان کے منشور کے دائرے میں شامل نہیں تھے۔
نئے مسودۂ قانون کے تحت سرکاری تعلیمی مراکز اور وہ نجی ادارے جو حکومتی امداد حاصل کرتے ہیں، فرانسیسی زبان سے متعلق نئی شرائط کے پابند ہوں گے۔ تاہم وہ طلبہ جو موجودہ زبان قوانین کے تحت انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے اہل ہیں، اس پابندی سے مستثنیٰ رہیں گے۔
صوبائی حکومت کے مطابق اس قانون سے تقریباً ستائیس ہزار طلبہ متاثر ہوں گے جن میں اکثریت نئے آنے والے افراد کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو سالہ عبوری مدت رکھی گئی ہے، جس کے دوران زیر تعلیم طلبہ اور نئے داخلہ لینے والے افراد پر یہ پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔
وزیر تعلیم سونیا لے بیل نے کہا کہ جو لوگ کیوبیک آتے ہیں انہیں روزگار، معاشرتی زندگی اور شہری امور میں زیادہ سے زیادہ فرانسیسی زبان استعمال کرنی چاہیے۔ وزیر ژاں فرانسوا روبیرژ نے بھی واضح کیا کہ یہ قانون بنیادی طور پر نئے آنے والوں کے لیے ہے، نہ کہ صوبے کی تاریخی انگریزی بولنے والی آبادی کے لیے۔
دوسری جانب انگریزی زبان کے تعلیمی بورڈز نے اس قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کیوبیک انگلش اسکول بورڈز ایسوسی ایشن کے نائب صدر کرسٹوفر کریگ کے مطابق اگر یہ قانون نافذ ہو گیا تو انگریزی زبان کے فنی اور بالغ تعلیمی مراکز اپنے ستر سے پچھتر فیصد طلبہ سے محروم ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فرض کر لینا درست نہیں کہ تمام طلبہ آسانی سے فرانسیسی تعلیمی نظام میں منتقل ہو جائیں گے، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ فرانسیسی ادارے اتنی بڑی تعداد میں نئے طلبہ کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔
ایسوسی ایشن نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ طلبہ کی تعداد میں ممکنہ کمی کے باعث انگریزی زبان کے فنی تربیتی مراکز میں تدریسی عملہ بھی متاثر ہو سکتا ہے، جس سے ملازمتوں اور مالی ذمہ داریوں کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
انگلش مونٹریال اسکول بورڈ کے سربراہ جو اورٹونا نے خبردار کیا کہ یہ قانون پہلے سے موجود افرادی قوت کی کمی کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کئی شعبے ہنرمند کارکنوں کی شدید ضرورت محسوس کر رہے ہیں اور نئی پابندیاں تربیت یافتہ افراد کی فراہمی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
تعلیمی نمائندوں اور انگریزی بولنے والوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ بل پیش کرنے سے قبل متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام زمینی حقائق کے بجائے مفروضوں کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔