اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آئندہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے روزمرہ استعمال کی اشیاء پر پرچون قیمت واضح طور پر درج کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس کی وصولی کو مؤثر بنانا ہے۔ اس کے تحت چائے کی پتی، خشک دودھ، ویجیٹیبل گھی، بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ اور کوکنگ آئل سمیت متعدد اشیاء پر پرچون قیمت پرنٹ کرنا لازمی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق روزمرہ استعمال کی درجنوں اشیاء کو ٹیکس نظام کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کی بھی تجویز ہے تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید منظم بنایا جا سکے۔
اسی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر ماحولیاتی سپورٹ لیوی بڑھانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اس لیوی کو موجودہ ڈھائی روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے۔
تخمینوں کے مطابق اس اضافے سے آئندہ مالی سال میں نوے ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے موجود ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔حکومتی حکمت عملی کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نظام کو وسیع کرنا اور ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔