اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خاص طور پر لبنان میں جاری کشیدگی اور اسرائیلی کارروائیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لبنان کے کسی علاقے پر اسرائیلی حملے جاری رہتے ہیں یا کسی حصے پر قبضے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ خطے میں طے پانے والے ایک مبینہ سفارتی فریم ورک کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ عراقچی نے الزام عائد کیا کہ امریکا اس صورتحال میں بالواسطہ طور پر ذمہ دار ہے کیونکہ وہ اپنے اتحادی اسرائیل کی کارروائیوں کو روکنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہا۔ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی سے متعلق ایک غیر رسمی مفاہمتی عمل پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک اس کی کوئی حتمی اور باضابطہ شکل سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو نہ صرف سفارتی کوششیں متاثر ہوں گی بلکہ پورے خطے میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔دوسری جانب لبنان پہلے ہی اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپیں اور فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس نوعیت کے بیانات کے ذریعے امریکا اور اسرائیل پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور لبنان کے مسئلے کو وسیع تر علاقائی مذاکرات سے جوڑ رہا ہے، تاہم اس وقت تک کسی بھی ایسے جامع بین الاقوامی معاہدے کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں ہے جس میں امریکا، اسرائیل، ایران اور حزب اللہ کو باضابطہ فریق قرار دیا گیا ہو۔