مونٹریال،نسلی امتیاز کے الزامات، سیاہ فام تنظیموں کا پولیس کے خلاف آزادانہ عوامی تحقیقات کا مطالبہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے شہر مونٹریال میں سیاہ فام برادری کی متعدد تنظیموں نے پولیس میں مبینہ نسلی امتیاز کے واقعات کی آزادانہ عوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے شفاف اور بااختیار تحقیق ناگزیر ہے۔

یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مونٹریال کے کثیر الثقافتی علاقے مونٹریال نارتھ میں پولیس کے ایک گشتی دستے کے اہلکاروں پر نسل پرستانہ رویے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

افرو یوتھ سمٹ کے ارکان نے منگل کو مطالبہ کیا کہ تحقیقات کا دائرہ صرف مونٹریال پولیس تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ دیگر پولیس اداروں کا بھی جائزہ لیا جائے جن کے خلاف ماضی میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک سے متعلق عدالتی فیصلے سامنے آ چکے ہیں۔

پولیس حکام نے گزشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ متعلقہ گشتی یونٹ کو ختم کر دیا گیا ہے، چودہ اہلکاروں کو گشت کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ دو اہلکاروں کو ممکنہ فوجداری خلاف ورزیوں کی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔

میئر مونٹریال، شہری حزب اختلاف اور صوبائی جماعت کیوبیک سولیڈیر بھی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کر چکی ہیں، جبکہ کیوبیک لبرل جماعت نے صوبائی پولیس کو معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

افرو یوتھ سمٹ کے صدر ایڈورڈ اسٹاکو نے کہا کہ اداروں کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے شفافیت ضروری ہے اور عوام کو حقائق جاننے کا حق حاصل ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر برائے داخلی سلامتی ایان لافرینیئر نے اعلان کیا ہے کہ مونٹریال پولیس کی جانب سے جاری اندرونی تحقیقات کی نگرانی کے لیے ایک مبصر مقرر کیا جائے گا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق الزامات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ بعض اہلکار نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے بال کاٹ کر انہیں بطور "یادگار” محفوظ رکھتے تھے۔ پولیس سربراہ فادی داغر نے تصدیق کی کہ بال کاٹنے سے متعلق دعوے زیرِ تفتیش الزامات کا حصہ ہیں۔

افرو یوتھ سمٹ اور کیوبیک میں سیاہ فام برادریوں کے مشاہداتی ادارے کی جانب سے گزشتہ برس جاری ایک تحقیق کے مطابق 83 فیصد سیاہ فام افراد نے زندگی میں کم از کم ایک بار امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کی اطلاع دی، جبکہ 66 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں کسی عوامی ادارے کی جانب سے غیر منصفانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نسلی امتیاز خصوصاً نوجوانوں اور بچوں کی ذہنی صحت پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے، اسی لیے متاثرین کی آواز بلند کرنا اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں