اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)شماریات کینیڈا کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں کینیڈا میں آباد ہونے والے تارکینِ وطن میں گھروں کی ملکیت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کینیڈا میں پیدا ہونے والے شہریوں میں اس شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔
تحقیق کے مطابق اونٹاریو میں ایسے تارکینِ وطن جو ملک میں پانچ سال مکمل کر چکے ہیں، ان کی گھر ملکیت کی شرح 2018 میں 35.7 فیصد سے بڑھ کر 2021 میں 40.2 فیصد ہو گئی، جو کہ 12 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس کے برعکس کینیڈا میں پیدا ہونے والے افراد میں اسی مدت کے دوران یہ شرح 50.7 فیصد سے کم ہو کر 47.8 فیصد رہ گئی، یعنی تقریباً پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے صوبوں اور مانیٹوبا میں حالیہ تارکینِ وطن کی گھریلو ملکیت کی شرح سب سے زیادہ رہی، اور ان علاقوں میں یہ شرح مقامی کینیڈین شہریوں کے برابر کے قریب پہنچ گئی ہے۔
شماریات کینیڈا کے سینئر ریسرچ اینالسٹ سیموئل میک آئزک کے مطابق جیسے جیسے تارکینِ وطن کینیڈا میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان کے گھر کے مالک بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اور پانچ سال کے اندر یہ فرق کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو تارکینِ وطن پہلے سال ہی گھر کے مالک بن گئے تھے، ان میں سے 85 فیصد سے زائد وہ افراد تھے جو پہلے غیر مستقل رہائشی حیثیت میں یعنی ورک یا اسٹڈی پرمٹ یا پناہ کی درخواست کے ذریعے کینیڈا میں موجود تھے، اور بعد میں مستقل رہائشی بنے۔
مطالعے کے مطابق کم از کم ہر دس میں سے ایک پناہ گزین پانچ سال کے اندر گھر کا مالک بن جاتا ہے، جبکہ اونٹاریو میں یہ شرح تقریباً پانچ میں سے ایک تک پہنچ جاتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ تارکینِ وطن نسبتاً مہنگے گھر خریدنے کے رجحان رکھتے ہیں اور وہ اپنے ریٹائرمنٹ سیونگز کے مقابلے میں رہائشی جائیداد کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ زیادہ قرض لے کر رہن (مارگیج) کے تحت گھر خریدتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ تارکینِ وطن کی آمدنی نسبتاً کم ہونے کے باوجود وہ پہلی بار گھر خریدنے والوں میں زیادہ مہنگے گھر خریدتے ہیں، اور ان میں ریٹائرمنٹ سیونگز اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے کی شرح بھی مقامی خریداروں کے مقابلے میں کم ہے۔
علاقائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کی پانچویں سال میں گھر ملکیت کی شرح برٹش کولمبیا میں 46 فیصد اور اونٹاریو میں 53.8 فیصد رہی۔ اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا سے آنے والوں میں یہ شرح اونٹاریو میں 23.3 فیصد جبکہ نیو برنسوک میں 59.9 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔
مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے مستقل رہائشیوں میں 2021 کے دوران اونٹاریو، البرٹا اور برٹش کولمبیا میں گھر ملکیت کی شرح سب سے زیادہ دیکھی گئی۔
تحقیق کے مطابق یورپ، امریکہ اور اوشیانا سے آنے والے مستقل رہائشیوں کی گھروں کی ملکیت کی شرح عمومی طور پر مقامی کینیڈین شہریوں کے برابر رہی، اور یہ رجحان زیادہ تر صوبوں میں یکساں دیکھا گیا۔