اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)بجلی کے صارفین کے لیے ایک اور ممکنہ مہنگائی کا خدشہ سامنے آ گیا ہے، جہاں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے فی یونٹ قیمت میں 82 پیسے اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ درخواست مئی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی ہے، جس پر نیپرا 30 جون کو باقاعدہ سماعت کرے گا۔ اس سماعت کے دوران تکنیکی جائزہ لینے کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافے یا اسے برقرار رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
سی پی پی اے کے مطابق مئی کے دوران بجلی کی پیداوار کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی۔ ادارے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے۔
اگر نیپرا کی جانب سے یہ درخواست منظور کر لی جاتی ہے تو ملک بھر کے صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
یہ مجوزہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی مہنگائی اور بجلی کے بلند نرخ عوام کے لیے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں، اور نئی درخواست نے صارفین کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔