اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت حتمی معاہدہ نہیں ہے اور اس پر مزید پیش رفت جاری رہ سکتی ہے۔
جی سیون اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس ڈیل کے باعث اسٹاک مارکیٹس میں بہتری آئی ہے اور اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو دنیا کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ مفاہمتی یادداشت ابھی حتمی شکل میں نہیں پہنچی اور اس میں تبدیلی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی امریکی کمپنی اس مرحلے پر ایران میں سرمایہ کاری نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو امریکہ دوبارہ سخت اقدامات یا حتیٰ کہ فوجی کارروائی کی طرف بھی جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مبینہ امن پیش رفت پر صدر ٹرمپ کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ فریقین جلد ایک حتمی اور جامع معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر آئندہ پریس کانفرنس میں مزید تفصیلات بھی شیئر کریں گے۔