اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا حکومت اور البرٹا فارماسسٹس ایسوسی ایشن کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کے لیے فارمیسی خدمات کو زیادہ آسان، کم خرچ اور گھر کے قریب دستیاب بنانا ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت دائمی مگر مستحکم بیماریوں میں مبتلا افراد کو ایک وقت میں زیادہ مدت کے لیے ادویات فراہم کی جائیں گی، جس سے انہیں بار بار فارمیسی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس کے علاوہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں پائلٹ منصوبوں کے ذریعے فارماسسٹ کی زیر نگرانی طبی خدمات کو بھی وسعت دی جائے گی، جبکہ ایسا مالیاتی نظام متعارف کرایا گیا ہے جو خدمات کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے ساتھ اخراجات کو بھی متوازن رکھے گا۔
نئے معاوضہ جاتی نظام کے تحت مسلسل نگہداشت (Continuing Care) سمیت خصوصی طبی مراکز میں کام کرنے والے فارماسسٹ روایتی طور پر صرف ادویات فراہم کرنے کے بجائے مزید کلینیکل خدمات بھی انجام دے سکیں گے، تاکہ مریضوں کو ہر جگہ بہتر علاج میسر آ سکے۔
اس معاہدے کے تحت مستحکم دائمی بیماریوں کے مریض ایک بار میں اپنی دوا کی 100 دن تک کی مقدار حاصل کر سکیں گے، جس سے بار بار فارمیسی جانے کی ضرورت کم ہوگی اور غیر ضروری اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔
وزیر برائے پرائمری اینڈ پریونٹیو ہیلتھ سروسز جسٹن رائٹ نے کہا کہ یہ معاہدہ عملی نتائج پر مبنی ہے، جس سے شہریوں کو کم چکر لگانے پڑیں گے، طبی سہولیات تک رسائی بہتر ہوگی اور زیادہ علاج گھر کے قریب دستیاب ہوگا۔ ان کے مطابق فارماسسٹ صحت کے شعبے کے قابل اعتماد فرنٹ لائن پیشہ ور ہیں اور اس معاہدے کے ذریعے البرٹا کے شہریوں کو بروقت اور آسان طبی خدمات فراہم کی جائیں گی۔
اس فریم ورک میں فارمیسی خدمات کی مالی معاونت کا طریقہ کار بھی شامل ہے، جس میں البرٹا بلیو کراس اور فارمیسیوں کے درمیان معاہدہ شامل ہے، جبکہ البرٹا فارماسسٹس ایسوسی ایشن کو کمیونٹی فارماسسٹ کی نمائندہ تنظیم کے طور پر مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
البرٹا فارماسسٹس ایسوسی ایشن کی صدر ایلین جینگ نے کہا کہ بطور فارمیسی مالک اور فارماسسٹ وہ روزانہ اپنی کمیونٹیز میں صحت کی بڑھتی ہوئی ضروریات دیکھتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ فارمیسیوں کے لیے مالی استحکام فراہم کرے گا اور انہیں دائمی بیماریوں کے علاج، بروقت ادویات اور ویکسین کی فراہمی سمیت اعلیٰ معیار کی طبی خدمات جاری رکھنے میں مدد دے گا۔
تین سالہ معاہدے کے تحت پہلے دو برسوں میں فارمیسیوں کے معاوضے میں ہر سال 3 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جبکہ تیسرے سال نتائج کا جائزہ لینے کے بعد نئی شرحوں کا تعین ہوگا۔
دس سال سے زائد عرصے میں پہلی بار نسخہ جات پر دی جانے والی ڈسپنسنگ فیس میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ 84 دن سے کم مدت کے نسخوں پر فیس 12.15 ڈالر سے بڑھا کر 12.35 ڈالر جبکہ 84 دن یا اس سے زیادہ مدت کے نسخوں پر 12.15 ڈالر سے بڑھا کر 13.50 ڈالر کر دی جائے گی۔
آئندہ موسم خزاں سے دیہی اور دور دراز علاقوں کی منتخب فارمیسیوں میں اضافی خدمات فراہم کی جائیں گی، جن میں صحت کی ابتدائی اسکریننگ، موقع پر تشخیصی ٹیسٹ (Point-of-Care Testing) اور فوری نوعیت کی بیماریوں کا ابتدائی معائنہ شامل ہوگا، تاکہ مریضوں کو اپنے علاقوں میں ہی جلد علاج میسر آ سکے۔
یہ پائلٹ منصوبے خاص طور پر دیہی، دور دراز اور مقامی (Indigenous) آبادیوں میں ضروری ادویات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائے جا رہے ہیں، جہاں طویل سفر کے باعث علاج میں تاخیر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مجاز طبی نسخہ نویس ہنگامی صورتحال میں نشے کے علاج کی مخصوص ادویات کا محدود ذخیرہ بھی اپنے پاس رکھ سکیں گے۔
نئے فریم ورک میں سرکاری اخراجات کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے چند اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے تحت 26 جون 2026 سے ہر فارماسسٹ کے لیے کلینیکل فارمیسی خدمات کی ماہانہ بلنگ کی حد 13 ہزار ڈالر مقرر ہوگی، علاج کے منصوبوں میں مزید ڈیٹا جمع کیا جائے گا تاکہ ان کے فوائد کا بہتر جائزہ لیا جا سکے، جبکہ روزانہ فراہم کی جانے والی ادویات کی ایک مخصوص فہرست بھی متعارف کرائی جائے گی تاکہ غیر ضروری اخراجات میں کمی آئے اور ادویات کا مناسب استعمال یقینی بنایا جا سکے۔