اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 235 ہو گئی ہے، جبکہ 4 ہزار 300 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز وینزویلا میں 7.1 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ شدید جھٹکوں کے باعث 22 منزلہ عمارت سمیت متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتیں منہدم ہو گئیں، جس کے بعد حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔
زلزلے کے بعد ریسکیو اہلکار اور رضاکار ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ اب تک 235 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
قدرتی آفت کے باعث ملک بھر میں تعلیمی ادارے اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ شدید نقصان پہنچنے کے بعد وینزویلا کا مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔
زلزلے کے بعد دنیا بھر کے رہنماؤں نے وینزویلا کے عوام سے اظہارِ تعزیت کیا اور امدادی تعاون کی پیشکش کی۔ امریکا نے متاثرین کی امداد کے لیے 150 ملین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکی حکام کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں اور متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وینزویلا میں زلزلے سے ہونے والی جانی و مالی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔