اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو ایک مضبوط معاشی طاقت بنانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اگر کسی نے پاکستان کی طرف بری نگاہ سے دیکھا تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔
لاہور میں داتا دربار کے 983ویں سالانہ غسل کی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو ایک میز پر بٹھایا اور خطے میں امن کی نئی راہ ہموار کی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔ ان کے بقول فیلڈ مارشل نے بیک ڈور سفارت کاری کے ذریعے اہم کردار ادا کیا، جبکہ آج دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 47 برس بعد ایران اور امریکا ایک میز پر بیٹھے، جو ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پاکستان نے صرف سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس معاہدے کو قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا بھی حصہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر مکمل عمل کرتا ہے۔ پاکستان ہر چھوٹے اور بڑے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کا احترام کرتا ہے، تاہم اگر کسی نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر اس کی مذمت کی، جبکہ دیگر ممالک نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف ایسی مذمت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ جس پاکستان کو کبھی سفارتی طور پر تنہا قرار دیا جاتا تھا، آج وہ عالمی سطح پر ایک امن پسند ملک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے اور تاجروں کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو خراب معاشی صورتحال ورثے میں ملی تھی، تاہم حکومت نے معیشت کو بہتر بنانے اور مشکلات پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔