ایران، امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی کوششیں تیز، تہران نے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو مذاکرات سے مشروط کر دیا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے مفاہمتی یادداشت اور آئندہ مذاکرات کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مفاہمت ایک دوطرفہ عمل ہے اور اگر امریکا مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے گا تو ایران بھی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غیر معقول شیخی بگھارنے اور بے بنیاد دھمکیوں کے مقابلے میں ایران کا مؤقف واضح ہے کہ فیصلہ سازی عقل، دانش اور انسانی وقار کی بنیاد پر ہونی چاہیے، جبکہ ضرورت پڑنے پر ملک اپنے دفاع میں فیصلہ کن اور نڈر رویہ اختیار کرے گا۔

صدر پزشکیان نے اس سے قبل یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ قطر میں منجمد ایران کے تقریباً 6 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے جلد جاری کر دیے جائیں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی درخواست پر آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ملاقات ہوگی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ملاقات کا اہتمام دوحہ میں کیا گیا ہے۔

تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کا شیڈول طے نہیں ہے۔

ادھر الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کو پس پشت ڈال کر مذاکراتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں، اگرچہ ان کی زیادہ توجہ اس وقت داخلی معاملات پر مرکوز ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف آج دوحہ میں دیگر مذاکراتی ٹیموں کے ساتھ موجود ہوں گے، جہاں ثالثی کی نئی کوششوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ، کشیدگی میں کمی اور فائر بندی کو برقرار رکھنا ہے، تاہم ثالثوں کے مطابق دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے باوجود پیش رفت سست اور پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے۔

اسی دوران امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور حالیہ پیش رفت پر کانگریس کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ حکام آج قانون سازوں کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ہونے والی پیش رفت پر باضابطہ بریفنگ دیں گے۔ امریکی انتظامیہ کا مقصد داخلی سیاسی دباؤ میں کمی لانا اور ایران سے متعلق خارجہ پالیسی پر ایک متفقہ حکمت عملی تشکیل دینا ہے۔

دوسری جانب قطر اور ایران کے درمیان بھی سفارتی رابطے جاری ہیں۔ قطری وزارت دفاع کے مطابق قطر کے وزیر دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن اور ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی تازہ سکیورٹی صورتحال، حالیہ پیش رفت اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں