کیوبیک میں شدید گرمی کی نئی لہر، ایئر کنڈیشنرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ کیوبیک میں شدید گرمی کی ایک اور لہر کے باعث ایئر کنڈیشنرز کی طلب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ کولنگ سسٹمز نصب کرنے والی کمپنیاں بڑھتی ہوئی مانگ پوری کرنے کے لیے اضافی اوقات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

جمعرات کو مونٹریال سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں ہیٹ وارننگ برقرار رہی۔ محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کینیڈا کے مطابق ہیومیڈیکس 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ جمعہ تک دن کے وقت درجہ حرارت 31 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ اور رات کے وقت 20 سے 24 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس کے باعث رات کے اوقات میں بھی گرمی سے خاطر خواہ راحت نہیں ملے گی۔

شدید گرمی کے باعث مونٹریال کے بیشتر شہریوں کے لیے ایئر کنڈیشنر اب عیش و آرام نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔

مونٹریال کی رہائشی سارہ این لیجر کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشنر کے بغیر ان کے گھر کا درجہ حرارت 32 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، اسی لیے وہ گرمی کی لہر کے دوران اپنی والدہ کے گھر میں قیام کر رہی ہیں اور اپنے نئے ایئر کنڈیشنر کی تنصیب کا انتظار کر رہی ہیں۔

ایک اور رہائشی کا’سِن ہیلیر نے بتایا کہ گرمی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ انہیں لگا وہ بے ہوش ہو جائیں گے، جس کے بعد انہوں نے ایک روز قبل ہی نیا ایئر کنڈیشنر خرید لیا۔شدید اور مرطوب موسم نے ایئر کنڈیشننگ کمپنیوں کے کاروبار میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

اے ٹی کلائمیٹائزیشن کے شریک مالک ڈینس نوساک نے کہا کہ گرمی کاروبار کے لیے تو فائدہ مند ہے، لیکن لوگوں کے لیے صورتحال مشکل ہوتی جا رہی ہے اور گاہک پہلے کے مقابلے میں زیادہ بے صبرے ہو گئے ہیں۔

کمپنی کے دوسرے شریک مالک الیگزینڈر ریناؤڈ کے مطابق ان کی ٹیمیں روزانہ پانچ سے دس تنصیبات مکمل کر رہی ہیں، جبکہ بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے بعض ملازمین ایک ہی دن میں دو دو تنصیبات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طویل اوقات تک مسلسل کام کرنا ملازمین کے لیے بھی جسمانی طور پر بہت مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

کمپنی نے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ ایک سال کے دوران اپنی گاڑیوں کی تعداد تقریباً دوگنی کر دی ہے۔ ڈینس نوساک کے مطابق گزشتہ سال کمپنی کے پاس چھ گاڑیاں تھیں جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 11 ہو چکی ہے۔

کمپنی نے مستقل ایئر کنڈیشننگ سسٹم کی تنصیب کا انتظار کرنے والے صارفین کے لیے عارضی طور پر پورٹیبل ایئر کنڈیشنرز فراہم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے تاکہ وہ شدید گرمی سے محفوظ رہ سکیں۔دوسری جانب فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہر شہری کے پاس مناسب کولنگ کی سہولت موجود نہیں۔

ویلکم ہال مشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم واٹس نے کہا کہ بے گھر افراد شدید گرمی میں ہیٹ اسٹروک کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں نہ ایئر کنڈیشننگ میسر ہوتی ہے اور نہ ہی مناسب سایہ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بزرگ اور کمزور افراد بھی تشویش کا باعث ہیں جو تنہا رہتے ہیں اور جن کے گھروں میں مناسب وینٹیلیشن یا ایئر کنڈیشننگ موجود نہیں۔

سیم واٹس کے مطابق ان کی تنظیم ہر سال گرمی کی شدت بڑھنے پر پیشگی تیاری کرتی ہے، پانی کا مناسب ذخیرہ رکھتی ہے اور خدمات حاصل کرنے والے افراد کو گرمی سے بچاؤ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں