اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبوں البرٹا اور اونٹاریو کی حکومتوں نے دونوں صوبوں کو ملانے والی 3,300 کلومیٹر سے زائد طویل خام تیل پائپ لائن اور انرجی کوریڈور کے مجوزہ روٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
البرٹا کی پریمیئر Danielle Smith اور اونٹاریو کے پریمیئر Doug Ford نے پیر کے روز کیلگری میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
حکومتوں کے مطابق ناردرن شیلڈ کوریڈور کے تحت روزانہ 5 لاکھ بیرل خام تیل البرٹا کے ہارڈسٹی سے اونٹاریو کے سارینیا تک منتقل کیا جائے گا۔ مستقبل میں اس منصوبے کی استعداد بڑھا کر روزانہ 8 لاکھ بیرل تک کرنے کا بھی امکان ہے۔
مجوزہ روٹ کے مطابق پائپ لائن البرٹا کے ہارڈسٹی سے شروع ہو کر ریجائنا اور ونی پیگ سے گزرتے ہوئے سارینیا، اونٹاریو پہنچے گی۔
پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ یہ منصوبہ کینیڈا کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق البرٹا کے توانائی وسائل کو کینیڈین ریفائنریوں اور مقامی منڈیوں سے جوڑ کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے، معیشت کو فروغ ملے گا اور ملک کے موجودہ قدرتی وسائل سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
حکومتوں کا کہنا ہے کہ یہ پائپ لائن مکمل طور پر کینیڈا کے اندر تعمیر کی جائے گی، جس کا مقصد غیر ملکی منڈیوں پر انحصار کم کرنا، موجودہ انفراسٹرکچر کے لیے متبادل سہولت فراہم کرنا اور سارینیا کی ریفائنریوں کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔
اونٹاریو حکومت کے مطابق یہ منصوبہ قومی سلامتی اور ملکی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ کینیڈین کارکنوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
پریمیئر ڈگ فورڈ نے کہا کہ کینیڈا عالمی سطح پر ایک معاشی طاقت ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی کی اس دوڑ میں کینیڈا سب سے آگے رہنے کا عزم رکھتا ہے۔
یہ مجوزہ منصوبہ 2025 میں البرٹا، اونٹاریو اور سسکیچیوان کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا نتیجہ ہے، جس میں اونٹاریو میں تیار کردہ اسٹیل سے پائپ لائنیں تعمیر کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
سسکیچیوان کے پریمیئر Scott Moe نے بھی منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے اسے قومی خوشحالی میں اضافے کا ذریعہ قرار دیا۔
حکام کے مطابق منصوبے کی لاگت کا تخمینہ ابھی زیرِ غور ہے، جبکہ ایک فزیبلٹی اسٹڈی کے ذریعے بجلی کے نظام میں بہتری، ترقی کے دیگر مواقع اور ممکنہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام جیسے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس مطالعے کی تکمیل 2026 کے اختتام تک متوقع ہے۔
اونٹاریو حکومت نے بتایا کہ اس منصوبے کے حوالے سے مقامی انڈیجینس شراکت داروں اور کمیونٹیز سے مشاورت کی جا چکی ہے اور قومی ترقی کے منصوبوں میں ان کی شمولیت کی حمایت کی جاتی ہے۔
فزیبلٹی اسٹڈی تیار کرنے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک مشاورتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس میں جی ایچ ڈی لمیٹڈ، ارنسٹ اینڈ ینگ ایل ایل پی (ای وائی کینیڈا)، موکواتہ، اٹکنز ریالس گروپ، ووڈ پی ایل سی اور ٹرنر اینڈ ٹاؤن سینڈ لمیٹڈ شامل ہیں، جبکہ انفراسٹرکچر اونٹاریو اس منصوبے میں کمرشل ایڈوائزر کے طور پر نگرانی اور رہنمائی کی ذمہ داریاں انجام دے گا۔