اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے سرکاری جنازے کے سلسلے کی اگلی مرحلے کی تقریبات کے لیے ان کا جسدِ خاکی تہران سے قم منتقل کر دیا گیا، جہاں آج (منگل) ایک مرتبہ پھر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی اور بعد ازاں جلوس کی صورت میں عوام کو آخری دیدار کرایا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا جسدِ خاکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے قم پہنچایا گیا۔ سرکاری ٹی وی نے مسجد جمکران کے اوپر پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹر کی ویڈیو نشر کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔ قم میں لاکھوں زائرین اور سوگواروں کی آمد کے پیشِ نظر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ مختلف سرکاری اداروں کو بھی ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔
اس سے قبل تہران میں لاکھوں افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور بعد ازاں ایک بڑے جلوس کی صورت میں امام حسین اسکوائر، انقلاب اسکوائر اور آزادی اسکوائر سے گزرتے ہوئے اپنے رہنما کو الوداع کہا۔ جلوس کے دوران سوگوار سیاہ پرچم اٹھائے ہوئے تھے، نوحہ خوانی کی گئی اور امریکا و اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔
سرکاری اعلان کے مطابق قم میں ہونے والی تقریبات کے بعد جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جہاں حضرت علیؑ، حضرت امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے مزارات پر حاضری دی جائے گی۔ اس کے بعد میت دوبارہ ایران لائی جائے گی اور 9 جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا سلسلہ 3 جولائی سے جاری ہے، جس کے دوران مختلف ممالک سے آنے والے وفود، مذہبی شخصیات اور حکومتی نمائندوں نے تہران میں ان کے جسدِ خاکی کا دیدار کیا، فاتحہ خوانی کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کی تدفین ابتدائی طور پر مارچ میں ہونا تھی، تاہم بعد کی جنگی صورتحال اور سکیورٹی وجوہات کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔