اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) غزہ میں جاری جنگ کے دوران صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے ۔
طبی سہولیات، ادویات اور ضروری آلات کی قلت کے باعث علاج سے محروم رہنے والے ایک ہزار پانچ سو سے زائد مریض انتقال کر گئے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر طبی امداد نہ پہنچائی گئی تو مزید قیمتی جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق جنگ کے باعث اسپتال انتہائی کٹھن حالات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
متعدد طبی مراکز یا تو جزوی طور پر فعال ہیں یا ضروری وسائل کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہزاروں ایسے مریض، جنہیں خصوصی علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقل کیا جانا ضروری تھا، سرحدی پابندیوں اور طبی انخلا میں رکاوٹوں کے باعث بروقت اسپتالوں تک نہیں پہنچ سکے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار پانچ سو سے زائد مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق گردوں کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ڈائلیسز مشینوں، ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان کی شدید قلت کے باعث گردوں کے پچاس فیصد سے زیادہ مریض انتقال کر چکے ہیں، جبکہ دیگر دائمی امراض میں مبتلا افراد کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں طبی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے اور اسپتالوں کو درکار بنیادی ادویات، سرجیکل سامان، ایندھن اور طبی آلات کی فراہمی تاحال بحال نہیں ہو سکی۔
صحت کے حکام کے مطابق موجودہ حالات میں مریضوں کی جانیں بچانے کے لیے فوری بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ غزہ میں فوری طبی امداد، ادویات اور ضروری آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ بیرونِ ملک علاج کے منتظر مریضوں کی محفوظ منتقلی کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔