اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے ۔
امریکی فوج نے ایران کے مختلف حصوں میں تقریباً 90 فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں میں میزائل تنصیبات، عسکری مراکز، فضائی دفاعی نظام اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی مؤقف ہے کہ یہ کارروائی خطے میں امریکی مفادات اور بحری جہاز رانی کو درپیش خطرات کے جواب میں کی گئی۔امریکی حملوں کے بعد ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، بحرین اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے امریکی جارحیت کا جواب ہیں اور اگر امریکا نے مزید کارروائی کی تو خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ایرانی حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی، متعدد مقامات پر فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے جبکہ امریکی فوجی اڈوں پر دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔
دوسری جانب عالمی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صورتحال مزید سنگین نہ ہو۔دوسری جانب اس تازہ تنازع کے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے علاقائی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی امن اور توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔