اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک، خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔اسلام آباد میں کروشیا کے وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے معزز مہمان اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ کروشیا کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان خیرسگالی، باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی تعلقات موجود ہیں، جنہیں تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے اور کروشیا پاکستانی سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سفارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے پاکستان ہر سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔اس موقع پر کروشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔