اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) آسٹریلیا نے بھارت کو یورینیم فروخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس معاملے پر کئی برسوں سے جاری تعطل ختم کر دیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اس پیش رفت کا اعلان آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی میلبورن میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا، جہاں یورینیم کی برآمدات سے متعلق انتظامی معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر یورینیم کی فراہمی کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، تاہم انہوں نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ آسٹریلیا بھارت کو کتنی مقدار میں یورینیم فراہم کرے گا یا برآمدات کا باقاعدہ آغاز کب کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان یورینیم کی برآمدات کا معاہدہ 2014 میں طے پایا تھا، لیکن اس پر عملی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ خدشات تھے کہ فراہم کیا جانے والا یورینیم پرامن مقاصد کے بجائے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔ ان خدشات کے باعث اس معاہدے پر عمل درآمد کئی برس تک مؤخر رہا۔
آسٹریلیا دنیا میں یورینیم کے سب سے بڑے معلوم ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، تاہم یہ خود نہ تو جوہری توانائی پیدا کرتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ آسٹریلیا اپنے یورینیم کے ذخائر مختلف ممالک کو برآمد کرتا ہے اور ان کی پرامن مقاصد کے لیے نگرانی سے متعلق سخت پالیسی پر عمل کرتا ہے۔دوسری جانب بھارت نے 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جس کے لیے اسے یورینیم کی مسلسل فراہمی درکار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آسٹریلیا سے یورینیم کی درآمد بھارت کے جوہری توانائی کے منصوبوں کو تقویت دے سکتی ہے اور اس کے طویل المدتی توانائی اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔
بھارت جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل نہیں ہے، جبکہ آسٹریلیا این پی ٹی کا رکن ہونے کے باعث ماضی میں ایسے ممالک کو یورینیم فروخت کرنے سے گریز کرتا رہا ہے جو اس معاہدے کا حصہ نہیں تھے۔ تاہم حالیہ انتظامی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں دفاع، تجارت، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا باعث بن سکتا۔